Uff Yeh Mehngai Aur Online Parhayi

93 Views

:اف یہ مہنگائی اور آن لائن پڑھائی:
سچ تو یہ ہے کہ آج کل ایک عام پاکستانی کی زندگی “اسکرولنگ” اور “ٹرولنگ” کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔ ایک طرف آن لائن پڑھائی کا عذاب ہے تو دوسری طرف مہنگائی کا وہ “خواب” جو روزانہ آنکھ کھولتے ہی حقیقت بن کر سامنے کھڑا ہوتا ہے۔

آئیے اس صورتحال پر تھوڑی نظر ڈالتے ہیں:

آن لائن کلاس شروع ہوتے ہی سب سے پہلے “بجلی” اپنی وفاداری بدل لیتی ہے۔ ابھی ٹیچر نے کہنا شروع کیا ہوتا ہے کہ “بیٹا! میری آواز آ رہی ہے؟” اور ادھر سے یو پی ایس  لمبی بیپ دے کر دم توڑ دیتا ہے۔ اب اندھیرے میں بیٹھ کر بندہ یہ سوچتا ہے کہ علم کی روشنی تو بعد میں آئے گی، پہلے تھوڑی دیر ہاتھ والا پنکھا جھل کر “دیسی ٹھنڈک” حاصل کر لی جائے۔

بجلی کے بل اب بل نہیں رہے، “دھمکی آمیز خط” بن چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے واپڈا والے میٹر ریڈنگ نہیں، ہماری نبض چیک کر کے بل بھیجتے ہیں۔

پیٹرول کی قیمت اور “ڈیجیٹل” سکون
پرانے وقتوں میں لوگ کہتے تھے کہ “علم حاصل کرنے کے لیے چین جانا پڑے تو جاؤ،” آج کل لوگ کہتے ہیں کہ “بھائی! اگر تندور تک بھی جانا ہے تو پیدل جاؤ، کیونکہ بائیک میں پیٹرول نہیں ہے۔”

آن لائن پڑھائی کا ایک فائدہ تو ہوا ہے کہ پیٹرول کے پیسے بچ رہے ہیں، لیکن وہ پیسے اب انٹرنیٹ کے “مہنگے ڈیٹا پیکجز” اور “بجلی کے سرچارجز” کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اب تو موٹر سائیکل کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ کوئی “اینٹیق”  چیز ہو، جسے صرف سنڈے کو صاف کر کے واپس کپڑا ڈال دینا چاہیے۔

مہنگائی کا اثر صرف جیب پر نہیں، آن لائن کلاس کے ڈسپلن پر بھی پڑا ہے:

ناشتہ بمقابلہ لیکچر: ٹیچر مائیکروسافٹ ٹیمز پر “پروٹین سینتھیسز” سمجھا رہے ہوتے ہیں اور پیچھے سے امی کی آواز آتی ہے، “انڈے مہنگے ہو گئے ہیں، آج صرف پراٹھا اور چائے ملے گی!”

کیمرہ آن کرنے کا خوف: کیمرہ آن کرنے کا مطلب ہے کہ گھر والوں کی “مہنگائی پر بحث” پوری دنیا کو سنائی دے جائے۔

مختصر یہ کہ، آج کل کا طالب علم ایک ہاتھ میں ماؤس اور دوسرے ہاتھ میں بجلی کا بل پکڑے “سروائیول کی جنگ” لڑ رہا ہے۔ مہنگائی نے ہمیں اتنا سادگی پسند بنا دیا ہے کہ اب ہم خواب میں بھی پیزا نہیں، بلکہ “سستا پیٹرول” اور “لوڈ شیڈنگ سے پاک پاکستان” دیکھتے ہیں۔

!اللہ بھلا کرے اس آن لائن پڑھائی کا، ورنہ اگر کالج جانا پڑتا تو پیٹرول کے خرچے میں ہم نے تو اپنی کڈنی  ہی بیچ دینی تھی

بقول شاعر🖋️
اف یہ مہنگائی، کیا رنگ لائی
ہر چیز نے قیمت اپنی بڑھائی
امی کہتی ہیں: “سوچ سمجھ کر لانا”
اب مشکل ہو گیا ہے کچھ بھی پانا

پٹرول کی قیمت آسمان کو چھوئے
گاڑی چلانا دل کو ڈرائے

اب آن لائن ہے اپنی پڑھائی
کبھی نیٹ غائب، کبھی بجلی نہ آئی

میم پکاریں: “بیٹا، جواب دو!”
ہم کہیں: “میم! نیٹ ہے ہی سلو!”

کتاب بھی ساتھ، موبائل بھی پاس
پڑھائی بنی ہے دلچسپ سی خاص

مشکل وقت ہے، پر ہنسنا ہے لازم
محنت کریں گے، بنیں گے ہم عالم

از قلم:
مسرت ہما