ائمہ وقار
جماعت ہشتم اے
زندگی میں بعض تبدیلیاں اچانک آتی ہیں اور ہمیں ایک نئے سفر پر لے جاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی
ہوا جب میں نے میٹرک کے لیے بیکن ہاؤس گلشن کیمپس سے ہارلے کیمپس بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تبدیلی میرے لیے آسان نہیں تھی کیونکہ میں گلشن کیمپس میں اٹھ سال سے زیادہ عرصے تک پڑھتی رہی تھی۔ وہاں کی عمارت، کلاس رومز، اساتذہ اور دوست سب میرے لیے بہت مانوس تھے۔
جب میں ہارلے کیمپس میں اپنے پہلے دن پہنچی تو سچ کہوں تو وہ دن کچھ عجیب اور مشکل محسوس ہوا۔ سب کچھ نیا تھا نئی جگہ، نئے لوگ اور نیا ماحول۔ میں تھوڑی گھبرائی ہوئی بھی تھی اور دل میں ایک اداسی بھی تھی کیونکہ میں اپنے پرانے اسکول اور دوستوں کو یاد کر رہی تھی۔ لیکن اسی دن مجھے زندگی کی ایک حقیقت بھی سمجھ آئی کہ تبدیلیاں زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
شروع میں نئے ماحول کے ساتھ ایڈجسٹ ہونا آسان نہیں تھا، لیکن آہستہ آہستہ میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ بھی میری زندگی کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ یہاں کے اساتذہ بہت مددگار اور محنتی ہیں، جس کی وجہ سے پڑھائی میں مجھے کافی سہولت محسوس ہو رہی ہے۔ استانیوں کا پڑھانے کا انداز بھی بہت اچھا ہے، جس سے مجھے لگتا ہے کہ میں یہاں بہت کچھ سیکھ سکتی ہوں۔
دوست بنانا ابھی میرے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ چونکہ میں نے پچھلے کیمپس میں کئی سال گزارے تھے، اس لیے وہاں کی دوستیوں جیسا تعلق فوراً بنانا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن میں کوشش کر رہی ہوں کہ نئے لوگوں سے بات کروں اور آہستہ آہستہ نئے دوست بناؤں۔ مجھے یقین ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔
میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ وقت واقعی انسان کا بہترین ساتھی ہوتا ہے۔ جو چیزیں شروع میں مشکل لگتی ہیں، وہ وقت کے ساتھ آسان ہو جاتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں میں اس نئے کیمپس میں مزید پراعتماد ہو جاؤں گی اور یہاں کی یادیں بھی اتنی ہی خوبصورت ہوں گی جتنی میرے پچھلے اسکول کی تھیں۔
آخر میں، میں اپنے پرانے اسکول کی دی ہوئی یادوں اور مواقع کے لیے بہت شکر گزار ہوں۔ وہاں گزارا ہوا وقت ہمیشہ میرے لیے خاص رہے گا۔ اب مجھے امید ہے کہ اس نئے کیمپس میں بھی مجھے سیکھنے، آگے بڑھنے اور خوبصورت یادیں بنانے کے وہی مواقع ملیں گے۔