بیکن اسکول سسٹم میں میرے سفر کو ابھی صرف دو ماہ ہی ہوئے ہیں، لیکن اس مختصر عرصے کے دوران مجھے یہاں کے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی انتھک محنت اور طلبہ کے جوش و جذبے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی بھرپور اہمیت دی جاتی ہے۔ چاہے کھیلوں کا میدان ہو، تعلیمی سرگرمیاں ہوں
یا تقریری مقابلے، اساتذہ اور طلبہ ہر میدان میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔
ان دنوں ہمارے اسکول میں اردو تقریری مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا موضوع ہے ”ہماری زندگی میں مصنوعی ذہانت (AI) کا کردار“۔ یہ موضوع نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ آج مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ تعلیم، صحت، مواصلات اور تحقیق سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں بچوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کو سمجھنا اور اس کے مثبت و منفی پہلوؤں سے آگاہ ہونا بے حد ضروری ہے۔
جب میں نے مستقبل کے ان معماروں کو اس موضوع پر پُراعتماد انداز میں اظہارِ خیال کرتے سنا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ نہ صرف مصنوعی ذہانت کے بارے میں مفید معلومات رکھتے ہیں بلکہ اس کے درست، ذمہ دارانہ اور مثبت استعمال کی اہمیت سے بھی واقف ہیں۔ بعض طلبہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ AI کس طرح سیکھنے کے عمل کو آسان بنا سکتی ہے، معلومات تک رسائی میں مدد دے سکتی ہے اور نئے خیالات کو جنم دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کے محتاط استعمال، معلومات کی تصدیق اور اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی اہمیت بھی قابلِ توجہ ہے۔
ان بچوں کو سن کر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ آج کے طلبہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہو رہے ہیں۔ تقریری مقابلے جیسی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی، تنقیدی سوچ، تحقیق، اظہارِ خیال اور دوسروں کے سامنے اپنے خیالات مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح کے مواقع بچوں کو نہ صرف سیکھنے بلکہ اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔
اس کامیابی کے پیچھے اساتذہ کی رہنمائی اور محنت کا بھی اہم کردار ہے۔ بچوں کی تیاری، ان کی حوصلہ افزائی اور ان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اساتذہ کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ایک اچھا استاد صرف علم نہیں دیتا بلکہ بچوں میں سوال کرنے، تحقیق کرنے، نئے امکانات تلاش کرنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی ایک اہم حقیقت ہے، لیکن اس کا بہترین استعمال وہی کر سکتا ہے جس کے پاس علم، شعور، تخلیقی سوچ اور اخلاقی اقدار ہوں۔ ٹیکنالوجی ہماری مددگار ضرور بن سکتی ہے، مگر انسانی ذہانت، محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔ اسی لیے بچوں کو AI کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنی آزادانہ سوچ، تحقیق اور سیکھنے کی عادت کو بھی مضبوط بنانا چاہیے۔
اگر ہمارے بچے اسی جذبے کے ساتھ پڑھتے، سیکھتے اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے رہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ملک کے لیے بھی روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔ بیکن اسکول سسٹم میں ان بچوں کی صلاحیتوں کو ابھرتے دیکھنا میرے لیے ایک خوش گوار تجربہ ہے۔ یہ ننھے ذہن آج جو سوالات اٹھا رہے ہیں، جو خیالات پیش کر رہے ہیں اور جو کچھ سیکھ رہے ہیں، وہی کل کی بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنے گا۔
کیونکہ مستقبل صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والوں کا نہیں، بلکہ اسے سمجھنے، بہتر بنانے اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے والوں کا ہوگا!
مصنوعی ذہانت: آج کے طلبہ، کل کے روشن ستارے تحریر: مس شہنیلا آصف
45 Views