Urdu Aur Hum

79 Views

  تحریر کردہ: سارہ اعظم 

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی ترقی اور شناخت ان کی زبان، تہذیب اور ادب سے وابستہ ہوتی ہے۔ اردو زبان صرف ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ اور احساسات کی امین ہے۔

اردو جو کہ ہماری مادری زبان ہے لیکن اسے دوسرا درجہ دے دیا گیا ہے کیونکہ اب اردو کی اہمیت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے ۔طلبہ میں اردو لکھنے کےشعور میں واضح کمی محسوس ہونے لگی ہے۔ اچھی سلیس، با ادب اردو جو ہوا کرتی تھی یعنی جو اردو ادب کی جو اصل شکل تھی وہ اب کہیں کھوتی جا رہی ہے۔

:اردو کا سنہرا ماضی

اردو زبان کا ماضی نہایت تابناک رہا ہے۔ برصغیر میں صدیوں تک اردو ادب نے علم، تہذیب اور شائستگی کو فروغ دیا۔ شاعری، نثر، خطوط، اور مکالمے میں اردو کی شیرینی اور نفاست نمایاں تھی۔اس دور میں لوگ ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے اور ان خطوط میں ادب، احترام اور شائستگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ الفاظ کا انتخاب ایسا ہوتا تھا کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ اردو ادب میں بڑے بڑے نام گذرے ہیں ۔ مرزا اسد اللہ خان غالب،میر تقی میر ،علاّمہ اقبال اور مشہور ہستیاں جنھوں نے اس زبان کو وہ مقام عطا کیا کہ اردو دنیا کی خوبصورت اور شائستہ زبانوں میں شمار ہونے لگی۔

:آج کا دور اور اردو کو درپیش چیلنجز

وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور تکنیکی تبدیلیوں نے زبانوں پر بھی اثر ڈالا۔ آج کے دور میں انگریزی زبان کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے، جس کی وجہ سے اردو کو ثانوی حیثیت ملتی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ سوشل میڈیا اور موبائل ایپلی کیشنز، خصوصاً واٹس ایپ کے استعمال نے تحریری انداز کو بدل دیا ہے۔

لوگ اردو رسم الخط میں لکھنے کے بجائے رومن اردو میں پیغامات لکھنے لگے ہیں۔ اس رجحان نے نہ صرف اردو کے حسن کو متاثر کیا بلکہ معیاری الفاظ کے استعمال کو بھی کم کر دیا ہے۔ لوگ اردو کے معیاری الفاظ لوگ استعمال کرنا بھول گئے ہیں بلکہ اب یہ حال ہے کہ جب اردو کے معیاری الفاظ استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو سمجھنے میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معیاری اردو کے زوال کی وجوہات:

،آج اردو زبان کو چند اہم مسائل کا سامنا ہے مثلاً

۰ رومن اردو کا بڑھتا ہوا استعمال ۔

۰انگریزی زبان کی برتری۔

۰ ادبی مطالعے میں کمی۔

۰ طلبہ میں تحریری صلاحیت کا کم ہونا۔

اس کے نتیجے میں معیاری اور شائستہ الفاظ آہستہ آہستہ ہماری گفتگو سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

:اردو زبان کی اصل خوبصورتی

اردو زبان کی اصل پہچان اس کی شائستگی، ادب اور مٹھاس میں ہے۔ جب کوئی شخص سلیس اور باادب اردو بولتا ہے تو اس کی شخصیت میں ایک وقار پیدا ہو جاتا ہے۔ اردو کے معیاری الفاظ نہ صرف گفتگو کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ معاشرتی تہذیب کو بھی زندہ رکھتے ہیں۔

:اردو کے احیاء کی ضرورت

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو زبان اپنی اصل شان کے ساتھ زندہ رہے تو ہمیں چند اقدامات کرنے ہوں گے۔

۰ گھروں میں اچھی اردو بولنے کی عادت کو فروغ دینا۔

۰ طلبہ کو اردو ادب پڑھنے کی ترغیب دینا۔

۰ سوشل میڈیا پر اردو رسم الخط میں لکھنے کی کوشش کرنا۔

۰ معیاری اور ادبی الفاظ کو اپنی گفتگو کا حصہ بنانا۔

یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات اردو زبان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

:اختتامیہ

اردو زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ثقافت، تہذیب اور شناخت ہے۔ اگر ہم نے اس کی قدر نہ کی تو آنے والی نسلیں اس خوبصورت ورثے سے محروم ہو جائیں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اردو زبان کو صرف ایک مضمون یا رسمی زبان نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی پہچان اور فخر کے طور پر اپنائیں اور مجھے یقین ہے ایک دن ہمارے طالب علم اس فخر اور پہچان کو اپنا کر دنیا میں اپنا اور اردو زبان کا نام ضرور روشن کریں گے۔ انشا اللہ۔

کیونکہ زبانیں صرف بولی نہیں جاتیں

وہ زندہ بھی رکھی جاتی ہیں۔