گھر اور اسکول: آدابِ زندگی کے سنہری اصول

35 Views

   تحریر کردہ: سیّد عابس شیراز – ششم سی

آداب و اخلاق انسانی شخصیت کا وہ روشن آئینہ ہے جس میں اس کی تربیت اور خاندانی اقدار کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ خوش اخلاقی اور تہذیب نہ صرف انسان کو معاشرے میں باوقار بناتی ہے بلکہ محبت، نظم و ضبط اور باہمی احترام کو بھی فروغ دیتی ہے۔  گھر اور اسکول وہ بنیادی ادارے ہیں جہاں بچّے یہ تربیت حاصل کرتے ہیں۔

گھر وہ پہلی  درسگاہ ہے جہاں بچّے  ادب و آداب ،بڑوں کا احترام،کھانے پینے کے آداب اور بہت سی دوسرے آداب سیکھتے ہیں۔

اسکول نہ صرف تعلیمی کامیابی کی کلید ہے بلکہ یہ ہمیں ایک مثالی اور باشعور شہری بننے کی تربیت  گاہ بھی ہے۔

استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ استاد کی بات کو خاموشی اور توجہ سے سننا، کلاس کے دوران بلا اجازت بات نہ کرنا اور سوال پوچھتے وقت ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھنا علم کے حصول کے لیے لازمی ہے۔

دوسروں کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا اور تمام ساتھیوں کے ساتھ مساوی اور ہمدردانہ برتاؤ کرنا بہترین اخلاق ہے۔

بروقت اسکول پہنچنا، تفویض کردہ کام •اپنا کام وقت پر مکمل کرنا اور اسکول کے وضع کردہ قوانین کی پاسداری کرنا
منظم طریقے سے مکمل کرنا یہ ایک اہم ذمہداری ہے۔

اسکول کی لائبریری، فرنیچر اور دیگر اشیاء کو نقصان نہ پہنچانا ہماری اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔

خوش اخلاقی اور شائستہ اطوار انسان کو نہ صرف کامیابی کی منزلوں تک لے جاتے ہیں بلکہ اسے ہر دلعزیز بھی بناتے ہیں۔ جو بچّے  گھر اور اسکول میں ان آداب کو اپنا لیتے ہیں وہ مستقبل کو بہتر بنانے  کی صلاحیت رکھتے ہیں اور معاشرے کے ایک کارآمد رکن ثابت ہوتے ہیں۔

گھر اور اسکول میں اچھے آداب اپنانا ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم احترام، صفائی، نظم و ضبط اور شائستگی کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیں، تو نہ صرف ہماری اپنی شخصیت نکھرے گی بلکہ ایک مثالی معاشرے کی بنیاد بھی پڑے گی۔