تحریر کردہ: عبدالرحمان کریمی ششم اے
کراچی ہمارے ملک کا سب سے بڑا شہر ہےلیکن افسوس یہاں کی سڑکیں ناقابلِ برداشت حالت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ جگہ جگہ موجود گڑھوں کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سڑک پر گڑھےموجود نہیں بلکہ گڑھوں میں تھوڑی تھوڑی سی سڑک رہ گئی ہے۔جگہ جگہ تعمیراتی کام کے سلسلے میں بنائی گئے ریت کے ٹیلے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم کسی پہاڑی علاقے میں سیر و تفریح کے لیے آئے ہوں ۔اسکول جانے والے بچوں کو روزانہ اس ڈھول مٹھی سے گزر کر اسکول جانا پڑتا ہے آور دفاتر جانے والے لوگوں کو شدید ٹریفک جام ہونےکی وجہ سے روزآنہ اعصابی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس سے سارا دن iن کا برا گذرتا ہےاور کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے.اس کی درد ناک مثال حال ہی میں گلشن میں پیش آنے والا واقعہ ہے جس میں ایک ننھی جان کھلے ہوئےمیں ہول میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی. ان گڑھوں کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک جام رہتا ہے بلکہ بارش کے دنوں میں تو صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔
ان ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور ادھورے تعمیراتی کاموں کے ساتھ ساتھ شہر میں جگہ جگہ لگے کچرے کے ڈھیروں نے صورتحال کو مزید اذیت ناک بنا دیا ہے۔ انتظامیہ کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ سیوریج کا پانی اور کچرا نالوں میں پھنس کر سڑکوں پر بہتا ہے جو نہ صرف تعفن پھیلاتا ہے بلکہ بنی بنائی سڑکوں کو بھی چند دنوں میں نیست و نابود کر دیتا ہے۔ گٹروں کے کھلے ہوئے ڈھکن موت کے کنویں بن چکے ہیں، جو معصوم جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس شہر کسی کا والی وارث نہیں اور یہاں کے باسی ٹیکس دینے کے باوجود بنیادی انسانی سہولیات سے بھی محروم کر دیئے گئے ہیں۔
ان مسائل کے مستقل حل کے لیے سب سے پہلے شہر کے نکاسیِ آب کے نظام کو سڑکوں کی تعمیر سے پہلے درست کرنا لازمی ہے تاکہ پانی سڑکوں کو دوبارہ خراب نہ کر سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے اعلیٰ معیار کا میٹریل استعمال کرے اور ٹھیکیداروں کی کڑی نگرانی کے لیے سرکاری اداروں کو متحرک کیا جائے۔ مزید برآں کچرے کی بروقت منتقلی اور کھلے مین ہولز پر فوری ڈھکن لگانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروانا چاہیے۔ جب تک بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر ان کی جوابدہی کا سخت نظام وضع نہیں کیا جائے گا، تب تک کراچی کے شہریوں کی یہ اذیت ختم نہیں ہو سکتی