تحریر کردہ: سیدہ دعا فاطمہ جعفری ششم اے
سردی کی چھٹیاں میرے سال کا سب سے پسندیدہ وقت ہوتی ہیں۔ ان چھٹیوں میں ہمیں آرام کے ساتھ ساتھ پڑھنے اور تفریح کا بھی بہترین موقع ملتا ہے۔ میری سردی کی چھٹیاں بھی نہایت خوشگوار اور یادگار رہیں۔
چھٹیوں کے دنوں میں میں صبح دیر سے اٹھتی تھی کیونکہ اسکول نہیں جانا ہوتا تھا۔ ٹھنڈے موسم میں رضائی میں رہنا بہت اچھا لگتا تھا۔ امی کے ہاتھ کا گرم دودھ اور ناشتہ سردی میں بڑی راحت دیتا تھا۔
میں نے سردی کی چھٹیوں میں اپنی پڑھائی پر خاص توجہ دی۔ روزانہ تھوڑا سا وقت نکال کر میں نے سبق دہرائے اور کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے کچھ نیا سیکھنے کی بھی کوشش کی، جیسے اچھی تحریر لکھنا، کہانیاں پڑھ کر ان کا خلاصہ کرنا اور اپنے وقت کی بہتر منصوبہ بندی کرنا۔ اس طرح میری چھٹیاں نہ صرف مفید بنیں بلکہ میرے علم میں بھی اضافہ ہوا۔
چھٹیوں کے دوران میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا۔ ابو ہمیں سبق آموز کہانیاں سناتے تھے اور میں نانی کے گھر بھی گئی جہاں کزنز کے ساتھ کھیل کود اور ہنسی مذاق ہوا۔ ان لمحات نے ہماری آپس کی محبت کو مزید مضبوط کر دیا۔
سردی کی چھٹیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو اپنے فارغ وقت کو بامقصد بنا سکتے ہیں۔ ہم اپنا ہوم ورک مکمل کر سکتے ہیں، نئی صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں اور والدین کی مدد کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی اچھا نمونہ بن سکتے ہیں۔
آخر میں میں یہی کہوں گی کہ میری سردی کی چھٹیاں بہت اچھی گزریں۔ میں نے ان میں آرام بھی کیا، کچھ نیا سیکھا اور اپنی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ اس طرح میری چھٹیاں ضائع ہونے کے بجائے یادگار اور فائدہ مند ثابت ہوئیں۔