ہشتم A از قلم : صوفیہ فیصل
ہماری زندگی موسموں کے مانند ہے، کبھی خوشیوں کی بہار آتی ہے تو کبھی آزمائشوں اور مشکلات کی گرمی ہمیں گھیر لیتی ہے۔ جس طرح موسم ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا بالکل اسی طرح زندگی بھی ہر لمحہ اپنا رنگ بدلتی رہتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آنے والے لمحے میں ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں صبر، حوصلے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنا چاہیے کیونکہ زندگی میں پیش آنے والے ہر واقعے کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے۔
ایک مشہور کہاوت ہے: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” زندگی میں آنے والی مشکلات سمندر کی لہروں کی مانند ہیں۔ اصل بات یہ نہیں کہ لہریں کتنی بلند ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان کا سامنا کس حوصلے اور حکمت کے ساتھ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ مشکلات سے گھبرا کر فوراً ہمت ہار دیتے ہیں، کچھ لوگ آخر تک ثابت قدم رہتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی پوری کوشش کرنے کے بعد معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتے ہیں اور بہتر انجام کی امید رکھتے ہیں۔
مشکلات کی گہرائی میں اترتے ہوئے ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا چاہیے۔ اگر اس نے ہمیں کوئی مشکل وقت دکھایا ہے تو یقیناً اس میں ہماری بھلائی اور کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوگی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزمائش ہمیشہ سزا نہیں ہوتی؛ بعض اوقات یہ انسان کے ایمان، صبر اور کردار کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
ہمیں ایک ہی زندگی ملی ہے، اس لیے اسے خوشی، شکرگزاری اور سمجھداری کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کون سی آزمائش ہمارا انتظار کر رہی ہے، لیکن ہم اپنے ایمان، صبر اور مثبت سوچ کے ذریعے ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر سکتے ہیں۔
زندگی کا حسن یہی ہے کہ خوشیاں ہوں یا آزمائشیں، زندگی کا سفر جاری رکھا جائے۔ اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔