Fasting: A Lesson in Patience, Gratitude and Kindness

37 Views

روزے کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں، جس کے معنی ہیں ’’رک جانا‘‘۔ اسلام میں روزے سے مراد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر ممنوعات سے رکے رہنا ہے۔ روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔

:اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:

’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘

میری رائے میں روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمیں صبر، شکر اور دوسروں کا احساس کرنا بھی سکھاتا ہے۔ جب میں نے پہلی بار پورا روزہ رکھا تو دوپہر کے وقت مجھے بہت پیاس لگی۔ لیکن افطار کے وقت جب امی نے مجھے ٹھنڈا شربت دیا تو مجھے خیال آیا کہ غریب بچے، جنہیں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا، کس مشکل سے گزرتے ہوں گے۔ اس دن مجھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا احساس ہوا۔

روزہ ہمارے دلوں کو نرم کرتا ہے اور ہمیں اچھے اخلاق اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس رمضان میں، میں نے کوشش کی کہ جھوٹ نہ بولوں، کسی سے لڑائی نہ کروں اور سب کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤں۔

:حضرت محمد ﷺ نے فرمایا

’’جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

رمضان المبارک میں لوگ زیادہ عبادت کرتے ہیں، مسجد جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے جیب خرچ سے ایک ضرورت مند انکل کو افطاری کروائی۔ اس نیکی سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور احساس ہوا کہ دوسروں کی مدد کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔

میرے خیال میں ہمیں صرف رمضان المبارک میں ہی نہیں، بلکہ پورا سال اچھے کام کرنے چاہئیں۔ ہمیں قرآنِ مجید کی تلاوت کرنی چاہیے، سچ بولنا چاہیے، بڑوں کا احترام کرنا چاہیے اور امی ابو کے ساتھ افطاری تیار کرنے میں بھی مدد کرنی چاہیے۔

روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل خوشی صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے میں بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے روزے اور عبادات قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Written by: Abeeha Nasir – 5A