بچوں کے نفسیاتی مسائل
بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی اچھی پرورش، تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ آج کے دور میں بچوں کو مختلف نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، جو ان کی شخصیت، تعلیم اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ گھریلو ناچاقی، والدین کی سختی، پڑھائی کا حد سے زیادہ دباؤ، امتحانات کا خوف، دوسروں کی طرف سے مذاق یا بدسلوکی، تنہائی اور موبائل فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال ان مسائل کی اہم وجوہات ہیں۔ بعض اوقات والدین بچوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور ان کا دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ اس رویے سے بچے میں احساسِ کمتری، بے چینی اور خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
بچوں کے نفسیاتی مسائل مختلف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض بچے خاموش اور الگ تھلگ رہنے لگتے ہیں یا معمولی باتوں پر غصہ کرنے لگتے ہیں، جبکہ بعض بچے پڑھائی، کھیل اور دوسری سرگرمیوں میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں بچے کو ڈانٹنے یا اس کی بات کو نظر انداز کرنے کے بجائے محبت، شفقت، توجہ اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں، ان کی بات غور سے سنیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچوں پر اپنی خواہشات مسلط کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی بچوں کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آنا چاہیے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اسکول میں بھی ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرے اور بلا خوف اپنی بات کہہ سکے۔ اگر کسی بچے کی پریشانی مسلسل برقرار رہے تو کسی قابلِ اعتماد بڑے یا ماہرِ نفسیات سے مناسب رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
میری رائے میں بچوں کے نفسیاتی مسائل صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو صرف اچھی تعلیم اور بہترین چیزوں کی نہیں بلکہ محبت، وقت، اعتماد، حوصلے اور محفوظ ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے ان کی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کریں اور ناکامی کی صورت میں انہیں مایوس کرنے کے بجائے دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیں۔ اگر گھر اور اسکول میں بچوں کے جذبات کو اہمیت دی جائے تو وہ زیادہ پُراعتماد، خوش مزاج اور باصلاحیت بن سکتے ہیں۔ ہمیں مل کر ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہیے جہاں ہر بچہ اپنی بات کہہ سکے اور آگے بڑھنے کا بھرپور
موقع حاصل کرے۔ آج کے خوش، پُراعتماد اور ذہنی طور پر مضبوط بچے ہی کل کے کامیاب، باکردار اور ذمہ دار شہری بنیں گے۔
(5A) تحریر: عجوہ آصف