بقائے ارض کی جانب ایک مضبوط قدم
گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی بیکن ہاؤس ایلیمنٹری کیمپس بلاک ۳ پی ای سی ایچ ایس میں یومِ ارض کے موقع پر ‘ارتھ آور’ کا اہتمام ایک ایسی یادگار گھڑی تھی جس نے ہم سب کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اس دن اسکول کا پورا ماحول بہت پر اثر محسوس ہو رہا تھا۔ در و دیوار پر طلبہ کے بنائے ہوئے رنگ برنگے پوسٹرز، چارٹس اور تخلیقی شاہکار آویزاں تھے جو بجلی بچانے اور زمین کو سرسبز رکھنے کا پیغام دے رہے تھے۔ اسکول کی اس خوبصورت سجاوٹ نے تقریب کے آغاز سے ہی سب میں نیا جوش بھر دیا تھا۔
جیسے ہی ارتھ آور کا وقت شروع ہوا اور کیمپس کی تمام روشنیاں بجھائی گئیں، تو اچانک ہر طرف پرسکون خاموشی چھا گئی۔ مگر روشنیوں کے اس طرح بند ہونے سے نہ تو کام رکا اور نہ ہی طلبہ کا جوش کم ہوا، بلکہ اس سادہ سے عمل نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم مصنوعی روشنیوں کے بغیر بھی کتنے سکون سے رہ سکتے ہیں۔ شام کے اس پہر میں سیکھنے کا ایک نیا سفر شروع ہوا جہاں طلبہ نے بہت سنجیدگی اور دلچسپی کے ساتھ توانائی کی بچت کی اہمیت کو سمجھا۔
اس موقع پر اساتذہ اور طلبہ کے درمیان ہونے والی گفتگو بے حد معلوماتی تھی۔ طلبہ نے نہ صرف بجلی بچانے کے عزم کا اظہار کیا بلکہ ری سائیکلنگ کی دلچسپ سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلوں، پرانے اخبارات اور ردی سے کارآمد اشیاء بنا کر یہ ثابت کیا کہ اگر ہم چاہیں تو کوڑے کرکٹ کو بھی دوبارہ استعمال میں لا کر اپنی زمین پر بوجھ کم کر سکتے ہیں۔ ان ننھے ہاتھوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیکھ کر خوشی اور فخر کا احساس ہوا۔
سب سے خوبصورت پہلو اس تقریب کا مقصد تھا ۔ یہ محض ایک گھنٹے کی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ایک بیداری کی لہر تھی جس نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے ذمہ دارانہ فیصلے ایک بڑے اور روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بطور استاد، بچوں کے چہروں پر وہ عزم اور یقین دیکھنا میرے لیے انتہائی اطمینان بخش تھا جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ہم نے مل کر زمین کی بقاء کی جانب ایک مضبوط قدم بڑھا دیا ہے۔ “آئیے اس عہد کو دہرائیں کہ ہماری زمین، ہماری ذمہ داری ہے۔
بقائے ارض کی جانب ایک مضبوط قدم
45 Views