آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں ترقی کے شور میں بہت سی ایسی اخلاقی اور سماجی قدریں پیچھے رہ گئی ہیں جو کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد ہوتی ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے
“تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایک فرد کی سوچ سے ہوتا ہے”
اسٹاپ دی روٹ” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے اس بگاڑ کو روکنے کی جو خاموشی سے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ جب ہم اس بگاڑ کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ بڑھتے ہوئے سماجی مسائل اور اخلاقی تنزلی ہے جو ناسور بن کر ہمیں گھیر چکے ہیں۔ کسی دانا کا قول ہے کہ
کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم کی ضرورت نہیں، بس اس کے نظامِ تعلیم اور اخلاقیات کو بگاڑ دینا ہی کافی ہے۔
ہمارے معاشرے میں کرپشن اور اقربا پروری وہ زہریلے اثرات ہیں جنہوں نے میرٹ کا قتل کر دیا ہے۔
اس بگاڑ کو جڑ سے اکھاڑنے میں سب سے اہم اور بنیادی کردار ایک استاد کا ہے۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ “استاد وہ معمار ہے جو خاموشی سے قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا، بلکہ وہ طالب علموں کی سوچ کو سمت دیتا ہے۔ اگر ایک استاد جماعت میں دیانتداری، انصاف اور محنت کی مثال قائم کرے، تو وہ کرپشن اور سفارش کلچر کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کر سکتا ہے۔
استاد کا رول صرف کتابی علم تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک رول ماڈل ہے۔ جب ایک استاد اپنے شاگردوں میں یہ شعور بیدار کرتا ہے کہ بددیانتی ایک سماجی موت ہے، تو وہ نسلوں کی آبیاری کر رہا ہوتا ہے۔ ہمیں اس سماجی بے حسی کو ختم کرنا ہوگا جہاں ہم اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا نقصان کرنے سے نہیں کتراتے۔ سچائی، نظم و ضبط اور انسانیت کا احترام وہ ستون ہیں جنہیں ایک استاد ہی طالب علموں کے دلوں میں پختہ کر سکتا ہے۔
اگر آج ہم نے ان بڑھتے ہوئے سماجی مسائل، کرپشن اور اخلاقی گراوٹ کو نہ روکا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں اب خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی قدم اٹھانا ہوگا۔
بقول شاعر
“خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔”
آئیے لفظوں سے آگے بڑھیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اس زنگ آلود معاشرے کو اپنے علم و تجربہ سے تراشنا شروع کریں۔بطور استاد ہم صرف نصاب نہیں پڑھائیں گےبلکہ کردار سازی بھی کریں گے۔
تعمیرِ نو: بہتر معاشرے کی جانب قدم (Stop the Rot)
34 Views