تدریس کے عمل میں سوال پوچھنا صرف معلومات کا امتحان لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ طلبہ کے ذہنوں میں سوچ کا دیہ جلانے کا فن ہے۔ ایک ماہر استاد اچھے سوالات کے ذریعے جماعت کو پرجوش بنا دیتا ہے۔
اکثر اساتذہ صرف یادداشت پر مبنی سوالات پوچھتے ہیں مثلاً: “پاکستان کب قائم ہوا؟
اس کے بجائے بلوم کے درجہ بندی کے نظام کے مطابق سوالات کی مختلف سطحیں ہونی چاہئیں
بنیادی سطح: معلومات اور یادداشت کو جانچنے کے لیے
اعلیٰ سطح: تجزیہ، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے مثلاً: اگر حالات یہ نہ ہوتے تو اس کا کیا اثر پڑتا؟
میری رائے اور ذاتی تجربے کے مطابق، سوال پوچھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ طلبہ کو پہلے سوال غور سے سننے کی ہدایت کی جائے، پھر انہیں فوراً جواب دینے کے بجائے کچھ دیر سوچنے کا پابند بنایا جائے اور لازمی طور پر انتظار کا وقت دیا جائے۔ جب ہم طلبہ کو سوال کے فوری بعد جواب دینے کی جلدی سے آزاد کرتے ہیں، تو نہ صرف ان کی گھبراہٹ ختم ہوتی ہے بلکہ ان کی طرف سے زیادہ سنجیدہ اور منطقی جوابات سامنے آتے ہیں۔ ۳ سے ۵ سیکنڈ کا یہ خاموش وقفہ طلبہ کو معلومات کو یکجا کرنے اور ایک بہترین جواب تیار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اگر کوئی طالب علم جواب نہ دے سکے، تو سوال کو آسان الفاظ میں دوبارہ بیان کریں، چھوٹے اشارے دیں، یا دوسرے طلبہ کو گفتگو میں شامل کریں۔
اگر طالب علم غلط جواب دے، تو اسے شرمندہ کرنے کے بجائے اس کی کوشش کو سراہیں۔ غلط جوابات اساتذہ کے لیے یہ سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں کہ طلبہ کو کہاں الجھن ہے۔.
جماعت میں سوچ کی شمع جلانے کا میرا تجربہ
20 Views