مطالعہ: بچوں کی روشن فکر اور روشن مستقبل کی کنجی

2 Views

                                                                                                       ۔ مطالعے کی اہمیت

             “کتابیں خاموش ہوتی ہیں، مگر انسان کی سوچ کو بولنا سکھا دیتی ہیں۔”

آج کا دور موبائل فون، ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ بچے گھنٹوں اسکرین کے سامنے وقت گزار دیتے ہیں، مگر جب ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب، خاص طور پر اردو کی کہانی یا بچوں کا رسالہ دیا جائے تو اکثر ان کی دلچسپی چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ صرف بچوں کا             مسئلہ نہیں، بلکہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

ایک ایسا بھی وقت تھا جب بچے “ٹوٹ بٹوٹ”، “ہمدرد نونہال”، “تعلیم و تربیت” اور خوبصورت اردو کہانیاں شوق سے پڑھتے تھے۔ ان کہانیوں سے نہ صرف زبان نکھرتی تھی بلکہ اخلاق، کردار، تہذیب اور زندگی کی اقدار بھی سیکھنے کو ملتیں۔ آج یہ روایت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

                                             مطالعہ کیوں ضروری ہے؟

مطالعہ صرف الفاظ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور زندگی کو بہتر انداز سے دیکھنے کا ہنر ہے۔ جو بچے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں، ان میں:

  • الفاظ کا ذخیرہ (Vocabulary) بڑھتا ہے۔
  • اظہارِ خیال میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
  • تخیل، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے۔
  • توجہ، یکسوئی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔
  • اخلاقی اقدار اور ہمدردی کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔

اردو کتابیں کیوں پڑھیں؟

اردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ اور ثقافت کی امین ہے۔ جب بچے اردو کہانیاں، نظمیں اور ادب پڑھتے ہیں تو وہ اپنی شناخت، اپنی روایات اور اپنے معاشرے سے مضبوط تعلق قائم کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج بہت سے بچے انگریزی کتابیں تو پڑھ لیتے ہیں، مگر اردو کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل اپنی زبان سے محبت کرے تو ہمیں انہیں دلچسپ اردو کہانیاں، نظمیں اور بچوں کا ادب ضرور فراہم کرنا ہوگا۔

علامہ اقبالؒ اور بچوں کا ادب

جب بچوں کی تربیت اور ادب کی بات ہوتی ہے تو علامہ اقبالؒ کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے لیے ایسی نظمیں لکھیں جو صرف یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی بھر رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

ان کی مشہور نظم “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” آج بھی بچوں کو اچھے اخلاق، خدمتِ خلق اور اعلیٰ کردار کا درس دیتی ہے۔

اسی طرح “ایک مکڑا اور مکھی”، “ایک پہاڑ اور گلہری”، “ہمدردی” اور دیگر نظمیں بچوں کو حکمت، محنت، خودداری اور دوسروں کی عزت کرنا سکھاتی ہیں۔ اقبالؒ نے بچوں کے ادب کو صرف تفریح نہیں بنایا بلکہ اسے کردار سازی کا ذریعہ بنایا۔

اردو شاعری اور مطالعہ

ہمارے شعرا نے علم اور مطالعے کی اہمیت کو ہمیشہ اجاگر کیا ہے۔

علامہ اقبالؒ نے فرمایا:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

یہ شعر بچوں کو بلند حوصلہ رکھنے اور ہمیشہ نئی منزلیں تلاش کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

اور ان کا یہ پیغام بھی ہر طالب علم کے لیے مشعلِ راہ ہے:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

والدین اور اساتذہ کا کردار

اگر بچے کتابوں سے دور ہو رہے ہیں تو ہمیں انہیں صرف نصیحت نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول دینا ہوگا جہاں کتابیں دوست بن جائیں۔

  • روزانہ کم از کم 15 سے 20 منٹ بچوں کے ساتھ مل کر کتاب پڑھیں۔
  • سونے سے پہلے اردو کہانی سنانے کی عادت اپنائیں۔
  • گھر اور کلاس روم میں ایک چھوٹا سا “مطالعہ کارنر” بنائیں۔
  • بچوں کو ان کی عمر اور دلچسپی کے مطابق اردو کتابیں تحفے میں دیں۔
  • مطالعے کو امتحان نہیں بلکہ خوشگوار تجربہ بنائیں۔

اختتامیہ

کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ شخصیت سازی، کردار سازی اور روشن مستقبل کی بنیاد بھی ہوتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل سوچنے والی، پڑھنے والی اور اپنی زبان و ثقافت سے محبت کرنے والی نسل بنے، تو ہمیں آج ہی ان کے دل میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا ہوگا۔

آخر میں علامہ اقبالؒ کے یہ خوبصورت اشعار:

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب نہیں بلکہ مطالعہ کرنے والا، سوچنے والا اور باکردار انسان بھی بنائیں گے، کیونکہ جو بچہ آج کتاب سے دوستی کرتا ہے، وہ کل زندگی میں کامیابی سے دوستی کرتا ہے۔