کامیابی کوئی ایسی چیز نہیں جو اتفاقاً مل جائے، بلکہ یہ ان چھوٹے چھوٹے کاموں کا نتیجہ ہوتی ہے جو ہم روزانہ ایک خاص ترتیب اور قاعدے سے کرتے ہیں۔ اسی ترتیب اور پابندی کا نام نظم و ضبط ہے۔ مشہور قول ہے کہ “نظم و ضبط وہ پل ہے جو اہداف اور کامیابی کو آپس میں جوڑتا ہے”۔ یہ صفت ہمیں سکھاتی ہے کہ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے درست جگہ کیسے استعمال کرنا ہے، کیونکہ جو انسان وقت کی قدر کرتا ہے، وقت اسے دنیا میں معتبر بنا دیتا ہے۔ اسلام ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: “بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے”۔ یہ عبادت ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں وقت اور نظم و ضبط کی کیا اہمیت ہے۔
بڑے خواب دیکھنا تو آسان ہے، لیکن انہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے مسلسل محنت اور خود پر قابو پانا ضروری ہے۔ نظم و ضبط ہمیں سستی سے بچاتا ہے اور منزل کی طرف گامزن رکھتا ہے۔ ارسطو نے کیا خوب کہا تھا کہ “ہم وہی بن جاتے ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں، پس فضیلت کوئی عمل نہیں بلکہ ایک عادت ہے”۔ جب ہم اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہیں، تو ہمارا اپنے اوپر اعتماد بڑھتا ہے اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے حالات کے غلام نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے معمار ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: “اپنے معاملات میں نظم و ضبط پیدا کرو”، جو اس بات کی دلیل ہے کہ کامیابی کی بنیاد ہی ترتیب اور سلیقے پر ہے۔
دنیا کے تمام عظیم لوگوں میں ایک بات مشترک رہی ہے اور وہ ہے اپنے نفس پر قابو۔ وہ تب بھی کام کرتے ہیں جب ان کا دل نہیں چاہ رہا ہوتا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جذبات عارضی ہیں مگر نظم و ضبط کے نتائج مستقل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ “اپنے نفس پر قابو پانا ہی سب سے بڑی فتح ہے”۔ اگر آپ اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں، تو کسی بڑے معجزے کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی روزمرہ کی روٹین درست کریں۔ یاد رکھیں، نظم و ضبط کے بغیر تمام صلاحیتں ضائع ہو سکتا ہے، جبکہ ایک عام انسان صرف اپنے نظم و ضبط کی بنیاد پر بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: “اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی سے کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو”۔ یہی وہ تسلسل ہے جو انسان کو کامیابی کی معراج تک پہنچاتا ہے۔
نظم و ضبط کامیابی کی کنجی
23 Views