کہانیاں بچپن کے اس سنہری دور کا حصہ ہیں جو بچوں کے تصوراتی جہاں کو وسعت دیتی ہیں۔ بیکن ہاؤس اسکول سسٹم ایلمنٹری کیمپس بلاک ۳ پی ای سی ایچ ایس میں پہلی، دوسری اور تیسری جماعت کے بچوں کو پڑھانے کےنو سالہ تجربے کے دوران میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ جب ایک بچہ کہانی سنتا ہے، تو وہ صرف الفاظ نہیں سن رہا ہوتا بلکہ وہ زبان کی ساخت، لہجے کے اتار چڑھاؤ اور نئے الفاظ کے چناؤ کو اپنے لاشعور میں محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔
بچوں کی زبان دانی میں قصہ گوئی اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ نصابی کتابوں کے خشک اسباق کے بجائے ایک جادوئی ماحول پیدا کرتی ہے۔ کہانیاں بچوں کو نئے الفاظ سے متعارف کروانے کا سب سے سہل ذریعہ ہیں۔ جب کوئی مشکل لفظ کسی دلچسپ واقعے کے دوران ان کے کانوں میں پڑتا ہے، تو وہ اسے محض رٹتے نہیںبلکہ اس کے استعمال اور مفہوم کو بخوبی سمجھ جاتے ہیں۔
سماعت کی قوت کو جلا بخشنے کے لیے بھی کہانی سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں۔ چھوٹی جماعتوں کے بچوں کے لیے اپنی توجہ کو ایک جگہ مرکوز رکھنا مشکل کام ہے، لیکن ایک دلکش کہانی انہیں خاموش رہنے اور غور سے سننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی سننے کی عادت ان کی فہم اور سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جو بچہ بچپن میں بہترین کہانیاں سنتا ہے، آگے چل کر اس کے تخیل میں وسعت آتی ہے اور وہ تخلیقی تحریر کے میدان میں دوسروں سے بازی لے جاتا ہے، کیونکہ اس کے پاس خیالات کی کمی نہیں ہوتی۔
ایک لسانی معلمہ کی حیثیت سے میرا مشورہ ہے کہ کہانی سناتے وقت آواز کے زیر و بم کا خاص خیال رکھا جائے۔ بچوں سے کہانی کے بیچ میں سوالات پوچھنا جیسے “اب آگے کیا ہوگا؟” ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ ابتدائی کلاسوں میں تصویروں والی کتابوں کا استعمال لفظ اور معنی کے درمیان تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ بیکن ہاؤس میں اردو کے نصاب کی کتب کو خاص طور پر اسی نہج پر تیار کیا گیا ہے تاکہ نونہالوں کی لسانی نشوونما کو بہترین طریقے سے پروان چڑھایا جا سکے۔
اپنے بارہ سالہ تعلیمی سفر کے نچوڑ کے طور پر میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ بچے جو باقاعدگی سے قصہ گوئی کی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں، ان کی اردو بولنے اور لکھنے کی مہارت دیگر بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نکھری ہوئی ہوتی ہے۔ اردو زبان کی مٹھاس اور چاشنی کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے موثر اور پائیدار راستہ یہی کہانیاں ہیں۔ لسانی نشوونما صرف حروف کی پہچان نہیں، بلکہ زبان سے انسیت پیدا کرنے کا نام ہے، اور یہ انسیت کہانیوں کے بغیر ادھوری ہے۔ بلکہ اس کے استعمال اور مفہوم کو بخوبی سمجھ جاتے ہیں۔
سماعت کی قوت کو جلا بخشنے کے لیے بھی کہانی سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں۔ چھوٹی جماعتوں کے بچوں کے لیے اپنی توجہ کو ایک جگہ مرکوز رکھنا مشکل کام ہے، لیکن ایک دلکش کہانی انہیں خاموش رہنے اور غور سے سننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی سننے کی عادت ان کی فہم اور سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جو بچہ بچپن میں بہترین کہانیاں سنتا ہے، آگے چل کر اس کے تخیل میں وسعت آتی ہے اور وہ تخلیقی تحریر کے میدان میں دوسروں سے بازی لے جاتا ہے،کیونکہ اس کے پاس خیالات کی کمی نہیں ہوتی۔
ایک لسانی معلمہ کی حیثیت سے میرا مشورہ ہے کہ کہانی سناتے وقت آواز کے زیر و بم کا خاص خیال رکھا جائے۔ بچوں سے کہانی کے بیچ میں سوالات پوچھنا جیسے “اب آگے کیا ہوگا؟” ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ ابتدائی کلاسوں میں تصویروں والی کتابوں کا استعمال لفظ اور معنی کے درمیان تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ بیکن ہاؤس میں اردو کے نصاب کی کتب کو خاص طور پر اسی نہج پر تیار کیا گیا ہے تاکہ نونہالوں کی لسانی نشوونما کو بہترین طریقے سے پروان چڑھایا جا سکے۔
اپنے بارہ سالہ تعلیمی سفر کے نچوڑ کے طور پر میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ بچے جو باقاعدگی سے قصہ گوئی کی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں، ان کی اردو بولنے اور لکھنے کی مہارت دیگر بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نکھری ہوئی ہوتی ہے۔ اردو زبان کی مٹھاس اور چاشنی کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے موثر اور پائیدار راستہ یہی کہانیاں ہیں۔ لسانی نشوونما صرف حروف کی پہچان نہیں، بلکہ زبان سے انسیت پیدا کرنے کا نام ہے، اور یہ انسیت کہانیوں کے بغیر ادھوری ہے۔
لسانی نشوونما میں قصہ گوئی کا کردار
312 Views