قومی زبان: ہماری پہچان اور اتحاد کی علامت

50 Views


کسی بھی آزاد قوم کے لیے اس کی قومی زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کے تہذیب، تمدن اور وقار کی محافظ ہوتی ہے۔ جس طرح ایک درخت اپنی جڑوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح کوئی بھی قوم اپنی زبان سے کٹ کر اپنی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اردو ہماری قومی زبان ہے اور یہ پاکستان کے چاروں صوبوں کو ایک لڑی میں پرونے کا کام کرتی ہے۔ پاکستان ایک کثیر لسانی ملک ہے جہاں مختلف علاقائی زبانیں اور انگریزی بولی اور سمجھی جاتی ہیں، لیکن اردو وہ واحد رابطہ ہے جو سندھی، پنجابی، بلوچی اور پختون بھائیوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
مادری یا قومی زبان میں تعلیم حاصل کرنا ذہنی نشوونما کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ پیچیدہ تصورات کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔
قیامِ پاکستان میں اردو کا کردار نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی شناخت اور اتحاد کی علامت بن کر ابھری۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کو ہی قومی زبان قرار دیا کیونکہ یہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ ہماری تاریخ، ادب، شاعری اور عظیم مفکرین کے افکار، جیسے علامہ اقبال اور فیض، اسی زبان میں محفوظ ہیں۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں نے اپنی زبان کو اپنا کر ہی بلندیوں کو چھوا ہے، کیونکہ اپنی زبان پر فخر کرنا دراصل اپنی آزادی پر فخر کرنا ہے۔
اردو ایک نہایت شیریں، دوستانہ اور سہل زبان ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا لچکدار ہونا ہے، جو اسے سیکھنے والوں کے لیے نہ صرف آسان بناتا ہے بلکہ اسے دوسروں کے دلوں میں گھر کرنے کا ہنر بھی دیتا ہے۔ یہ کوئی مشکل زبان نہیں، بلکہ محبت اور اپنائیت کی زبان ہے جسے تھوڑی سی توجہ سے بخوبی سیکھا جا سکتا ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی اس آسان اور خوبصورت قومی زبان کی ترویج کے لیے عملی کوششیں کریں گے، کیونکہ ہماری اصل پہچان اردو سے ہی ہے!